.دنیا کے تیزرفتار ترین طیارے کی آزمائشی پرواز2021میں ہوگی.
امریکی کمپنی کا سپرسانک طیارہ 17سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پروازکرئے گا نیویارک(اردوپوائنٹ اخبار -انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 جولائی ۔2020ء) ایک عام جہاز سے لندن سے نیویارک کا سفر لگ بھگ 7 گھنٹے میں طے ہوتا ہے جو کہ زبردست پیشرفت ہے کیونکہ بحری جہازوں سے اس سفر کو طے کرنے میں کئی ہفتے بلکہ مہینے بھی لگ سکتے ہیں‘ سپر سانک طیارہ کراچی سے لندن کا طویل سفر بھی تین گھنٹوں میں ممکن ہوسکے گا‘یہ طیارہ بوم نامی کمپنی تیار کررہی ہے اور اسے دنیا کا تیز ترین سول ائیرکرافٹ .قرار دیا گیا ہے. اس طیارے کے چھوٹے ورژن بوم ایکس بی 1 کی آزمائش آئندہ سال کسی وقت ہوگی اور بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ لندن سے نیویارک کا سفر ساڑھے تین گھنٹے سے بھی پہلے طے ہوسکے گا‘کمرشل پروازوں کے لیے یہ طیارہ اگلی ایک دہائی کے دوران فضا میں پرواز کرتا نظر آئے گا جو 1700 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرے گا جبکہ اس کا پروٹوٹائپ 2021 میں آزمائشی پرواز کا حصہ بنے گا. آسان الفاظ میں لاہور اور کراچی...
Comments
Post a Comment